Font by Mehr Nastaliq Web

کھڑے ہیں جبرئیل ہاتھ باندھے نبی کو مژدہ سنارہے ہیں

حامد الہ آبادی

کھڑے ہیں جبرئیل ہاتھ باندھے نبی کو مژدہ سنارہے ہیں

حامد الہ آبادی

MORE BYحامد الہ آبادی

    کھڑے ہیں جبرئیل ہاتھ باندھے نبی کو مژدہ سنارہے ہیں

    اٹھو کہ معراج کی ہے شب یہ فرشتے رف رف کو لا رہے ہیں

    نہیں ہے حوروں کو تاب فرقت نگاہِ حسرت سے سب ہیں نگراں

    فلک کے پردے اٹھے ہوئے ہیں کہ حق کے محبوب آرہے ہیں

    کبھی نہ ایسا ہوا نہ دیکھا کسی نے ہرگز یہ ساز و ساماں

    کہ راہ میں کہکشاں بچھی ہے حضور رف رف پہ جا رہے ہیں

    ازل سے جس کے لیے نگاہیں بلند یوں میں بھٹک رہی تھیں

    ہر ایک منزل پہ جا کے خود ہی وہ آج جلوہ دکھا رہے ہیں

    ہزاروں دن سے یہ شب ہے بہتر کہ جس سے رونق ملی ہے دیں کو

    اسی کی برکت سے آج دیکھو ستارے سب جگمگا رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے