حرفِ اقرا سے جلی جب شمعِ دیوارِ حرا
حرفِ اقرا سے جلی جب شمعِ دیوارِ حرا
جگمگا اٹھا نبی کے نور سے غارِ حرا
آج بھی جاری ہے میرے شاہ کا فیضِ کرم
بٹ رہے ہیں آج بھی ہر سمت انوارِ حرا
آتے رہتے تھے یہاں سرکار جن ایام میں
چومتی رہتی تھی بادِ قدس رخسارِ حرا
خدمتِ سرکار میں سب پیش کرتے تھے سلام
چاہے وہ اشجارِ مکہ ہوں کہ احجارِ حرا
پتھروں میں بھی نظر آتی ہے سونے کی چمک
دیکھ لو تم آنکھ والو جا کے کہسارِ حرا
کر گئی دل میں مرے گھر، ایک زائر کی یہ بات
سر پہ مکہ کی سجی ہے خوب دستارِ حرا
رکھ دوں ان کے نقشِ پا پہ جا کے میں نازشِ جبیں
ہو مقدر میں اگر، اک بار دیدارِ حرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.