تماشہ گر تماشائی تماشا بھی تمہی سے ہے
تماشہ گر تماشائی تماشا بھی تمہی سے ہے
کہ اب ہو داورِ کون و مکاں اب لامکاں تم ہو
مقرر ہی نہ ہوں جیسے حدیں سیلِ تلون کی
ابھی تم ذرہ خاکی ابھی دونوں جہاں تم ہو
مسیحائی مسیحوں کی فقیروں کی زبوں حالی
غرورِ مہوشاں تم ہو نیاز مئے کشاں تم ہو
ہمارے درمیاں پردہ نہ واجب ہے نہ ممکن ہے
کہ سب کے راز تم ہمراز تم ہو رازداں تم ہو
اسے افسوسِ ماضی فکرِ فردا آج کا غم کیا
کہ جس کے حال پر اے جانِ جاناں مہرباں تم ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.