Font by Mehr Nastaliq Web

تماشہ گر تماشائی تماشا بھی تمہی سے ہے

حقیر آستانی

تماشہ گر تماشائی تماشا بھی تمہی سے ہے

حقیر آستانی

MORE BYحقیر آستانی

    تماشہ گر تماشائی تماشا بھی تمہی سے ہے

    کہ اب ہو داورِ کون و مکاں اب لامکاں تم ہو

    مقرر ہی نہ ہوں جیسے حدیں سیلِ تلون کی

    ابھی تم ذرہ خاکی ابھی دونوں جہاں تم ہو

    مسیحائی مسیحوں کی فقیروں کی زبوں حالی

    غرورِ مہوشاں تم ہو نیاز مئے کشاں تم ہو

    ہمارے درمیاں پردہ نہ واجب ہے نہ ممکن ہے

    کہ سب کے راز تم ہمراز تم ہو رازداں تم ہو

    اسے افسوسِ ماضی فکرِ فردا آج کا غم کیا

    کہ جس کے حال پر اے جانِ جاناں مہرباں تم ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے