رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو تو پسند
اپنا عزیز وہ ہے جسے تو عزیز ہے
ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تو پسند
مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس
اے جان کر لے ٹوٹے ہوئے دل کو تو پسند
ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب
تیری وہ خو ہے کرتے ہیں جس کو عدو پسند
کیوں کر نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاک
دنیا میں آج کس کو نہیں آبرو پسند
ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظر
عاجز نواز ہے تیری اے خوبرو پسند
قل کہہ کر اپنی بات بھی لب سے ترے سنی
اللہ کو ہے اتنی تری گفتگو پسند
حور و فرشتہ جن و بشر سب نثار ہیں
ہے دو جہاں میں قبضہ کیے چار سو پسند
ان کے گناہ گار کی امید عفو کو
پہلے کرے گی آیت لا تقنطوا پسند
طیبہ میں سر جھکاتے ہیں خاکِ نیاز پر
کونین کے بڑے سے بڑے آبرو پسند
ہے خواہشِ وصالِ درِ یار اے حسنؔ
آئے نہ کیوں اثر کو مری آرزو پسند
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 56)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.