Font by Mehr Nastaliq Web

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

حسن رضا بریلوی

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

    سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو

    کیوں اپنی گلی میں وہ روادار صدا ہو

    جو بھیک لیے راہ گدا دیکھ رہا ہو

    گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو

    جتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں ادا ہو

    ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار

    رتبا سے تنزل کرے تو ظل ہما ہو

    موقوف نہیں صبح قیامت ہی پہ یہ عرض

    جب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو

    دے اس کو دم نزع اگر حور بھی ساغر

    منہ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو

    فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا

    جو کوئی مدینہ کے بیاباں میں گما ہو

    دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا

    آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہو

    آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا

    خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کا بھلا ہو

    ویراں ہوں جب آباد مکاں صبح قیامت

    اجڑا ہوا دل آپ کے جلووں سے بسا ہو

    ڈھونڈھا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی

    وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو

    جب دینے کو بھیک آئے سر کوئے گدایاں

    لب پر یہ دعا تھی مرے منگتا کا بھلا ہو

    جھک کر انہیں ملنا ہے ہر اک خاک نشیں سے

    کس واسطے نیچا نہ وہ دامان قبا ہو

    تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت

    ہے ترک ادب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہو

    دے ڈالیے اپنے لب جاں بخش کا صدقہ

    اے چارۂ دل درد حسنؔ کی بھی دوا ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے