کیا خدا داد آپ کی امداد ہے
کیا خدا داد آپ کی امداد ہے
اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے
مصطفیٰ تو برسرِ امداد ہے
عفو تو کہہ کیا ترا ارشاد ہے
بن پڑی ہے نفسِ کافر کیش کی
کھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے
اس قدر ہم ان کو بھولے ہائے ہائے
ہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے
نفسِ اَمَّارہ کے ہاتھوں اے حضور
داد ہے بیداد ہے فریاد ہے
پھر چلی بادِ مخالف لو خبر
ناؤ پھر چکرا گئی فریاد ہے
کھیل بگڑا ناؤ ٹوٹی میں چلا
اے مِرے والی بچا فریاد ہے
رات اندھیری میں اکیلا یہ گھٹا
اے قمر ہو جلوہ گر فریاد ہے
عہد جو ان سے کیا روزِ الست
کیوں دلِ غافل تجھے کچھ یاد ہے
میں ہوں میں ہوں اپنی امت کے لیے
کیا ہی پیارا پیارا یہ ارشاد ہے
وہ شفاعت کو چلے ہیں پیشِ حق
عاصیو تم کو مبارکباد ہے
کون سے دل میں نہیں یادِ حبیب
قلبِ مؤمن مصطفیٰ آباد ہے
جس کو اس در کی غلامی مل گئی
وہ غمِ کونین سے آزاد ہے
جن کے ہم بندے وہی ٹھہرے شفیع
پھر دلِ بیتاب کیوں ناشاد ہے
ان کے در پر گر کے پھر اٹھا نہ جائے
جان و دل قربان کیا افتاد ہے
یہ عبادت زاہدو بے حب دوست
مفت کی محنت ہے سب برباد ہے
ہم صفیروں سے ملیں کیوں کر حسنؔ
سخت قید اور سنگ دل صیاد ہے
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 99)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.