Font by Mehr Nastaliq Web

کیا خدا داد آپ کی امداد ہے

حسن رضا بریلوی

کیا خدا داد آپ کی امداد ہے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    کیا خدا داد آپ کی امداد ہے

    اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے

    مصطفیٰ تو برسرِ امداد ہے

    عفو تو کہہ کیا ترا ارشاد ہے

    بن پڑی ہے نفسِ کافر کیش کی

    کھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے

    اس قدر ہم ان کو بھولے ہائے ہائے

    ہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے

    نفسِ اَمَّارہ کے ہاتھوں اے حضور

    داد ہے بیداد ہے فریاد ہے

    پھر چلی بادِ مخالف لو خبر

    ناؤ پھر چکرا گئی فریاد ہے

    کھیل بگڑا ناؤ ٹوٹی میں چلا

    اے مِرے والی بچا فریاد ہے

    رات اندھیری میں اکیلا یہ گھٹا

    اے قمر ہو جلوہ گر فریاد ہے

    عہد جو ان سے کیا روزِ الست

    کیوں دلِ غافل تجھے کچھ یاد ہے

    میں ہوں میں ہوں اپنی امت کے لیے

    کیا ہی پیارا پیارا یہ ارشاد ہے

    وہ شفاعت کو چلے ہیں پیشِ حق

    عاصیو تم کو مبارکباد ہے

    کون سے دل میں نہیں یادِ حبیب

    قلبِ مؤمن مصطفیٰ آباد ہے

    جس کو اس در کی غلامی مل گئی

    وہ غمِ کونین سے آزاد ہے

    جن کے ہم بندے وہی ٹھہرے شفیع

    پھر دلِ بیتاب کیوں ناشاد ہے

    ان کے در پر گر کے پھر اٹھا نہ جائے

    جان و دل قربان کیا افتاد ہے

    یہ عبادت زاہدو بے حب دوست

    مفت کی محنت ہے سب برباد ہے

    ہم صفیروں سے ملیں کیوں کر حسنؔ

    سخت قید اور سنگ دل صیاد ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 99)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے