Font by Mehr Nastaliq Web

ایسا تجھے خالق نے طرح_دار بنایا

حسن رضا بریلوی

ایسا تجھے خالق نے طرح_دار بنایا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

    یوسف کو ترا طالب دیدار بنایا

    طلعت سے زمانہ کو پر انوار بنایا

    نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا

    دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوے

    آئینوں کو جن جلووں نے دیوار بنایا

    وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھے

    اس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا

    اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع

    تو نے ہی اسے مطلع انوار بنایا

    کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر

    کونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا

    کنجی تمہیں دی اپنے خزانوں کی خدا نے

    محبوب کیا مالک و مختار بنایا

    اللہ کی رحمت ہے کہ ایسے کی یہ قسمت

    عاصی کا تمہیں حامی و غم خوار بنایا

    آئینہ ذات احدی آپ ہی ٹھہرے

    وہ حسن دیا ایسا طرح دار بنایا

    انوار تجلی سے وہ کچھ حیرتیں چھائیں

    سب آئینوں کو پشت بدیوار بنایا

    عالم کے سلاطین بھکاری ہیں بھکاری

    سرکار بنایا تمہیں سرکار بنایا

    گلزار کو آئینہ کیا منہ کی چمک نے

    آئینہ کو رخسار نے گلزار بنایا

    یہ لذت پا بوس کہ پتھر نے جگر میں

    نقش قدم سید ابرار بنایا

    بے پردہ وہ جب خاک نشینوں میں نکل آئے

    ہر ذرہ کو خورشید پر انوار بنایا

    اے ماہ عرب مہر عجم میں ترے صدقے

    ظلمت نے مرے دن کو شب تار بنایا

    اللہ کرم میرے بھی ویرانۂ دل پر

    صحرا کو ترے حسن نے گلزار بنایا

    اللہ تعالیٰ بھی ہوا اس کا طرف دار

    سرکار تمہیں جس کا طرف دار بنایا

    گلزار جناں تیرے لیے حق نے بنائے

    اپنے لیے تیرا گل رخسار بنایا

    بے یار و مددگار جنہیں کوئی نہ پوچھے

    ایسوں کا تجھے یار و مددگار بنایا

    ہر بات بد اعمالیوں سے میں نے بگاڑی

    اور تم نے مری بگڑی کو ہر بار بنایا

    اس جلوۂ رنگیں کا تصدق تھا وہ جس نے

    فردوس کے ہر تختہ کو گلزار بنایا

    ان کے در دنداں کا وہ صدقہ تھا کہ جس نے

    ہر قطرۂ نیسان در شہوار بنایا

    اس روح مجسم کے تبرک نے مسیحا

    جاں بخش تمہیں یوں دم گفتار بنایا

    اس چہرۂ پر نور کی وہ بھیک تھی جس نے

    مہر و مہ و انجم کو پر انوار بنایا

    ان ہاتھوں کا جلوہ تھا یہ اے حضرت موسیٰ

    جس نے ید بیضا کو ضیا بار بنایا

    ان کے لب رنگیں کی نچھاور تھی وہ جس نے

    پتھر میں حسنؔ لعل پر انوار بنایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے