جب بھی کہیں پہ مدحتِ شان خدا ہوئی
جب بھی کہیں پہ مدحتِ شان خدا ہوئی
ذکر رسول پاک سے ہی ابتدا ہوئی
وہ پا گیا نجات گناہوں کے بوجھ سے
محشر میں جس کو ان کی شفاعت عطا ہوئی
نور خدا تھا رخ پہ رسالت مآب کے
پروانہ وار آپ پہ دنیا فدا ہوئی
ہر امتی پہ رنج و مصائب کی دھوپ میں
سایہ فگن انہیں کے کرم کی ردا ہوئی
اکسیر ہوگی میری بصارت کے واسطے
مجھ کو نصیب ان کی اگر خاک پا ہوئی
اے شاہ مرسلین کتاب مبین سے
فطرت ترے غلام کی حق آشنا ہوئی
اترے ہیں جب بھی ذہن میں اشعار نعت کے
اے سوزؔ ان سے میری عقیدت سوا ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.