Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایہ ناز میں

اکرام احمد لطفؔ

جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایہ ناز میں

اکرام احمد لطفؔ

MORE BYاکرام احمد لطفؔ

    جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایہ ناز میں

    کہ لگی ہو خاک در حضور مری جبین نیاز میں

    کہیں لعل ہے تو کہیں گہر، کہیں شمس ہے تو کہیں قمر

    یہ اسی کا حُسن ہے جلوہ گر جو نہاں ہے پردہ راز میں

    تری ذات شانِ کمال رب، ترا حسن ہے وہ مہ عرب

    کہ سوئی سے شئے ملی وقت شب ترے اک تبسم ناز میں

    رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ

    نہ ہماری بزم خیال میں، نہ دکان آئینہ سازمیں

    مجھے کام کیا تھا رکوع سے مجھے ہوش کیا تھا سجود کا

    ترے نقش پاکی تلاش تھی ہو جھکا ہوا تھا نماز میں

    ترے لطفؔ کی ہے یہ آرزو کہ نہ جائے حشر میں آبرو

    مرے پردہ پوش چھپا لے تو اسے اپنے دامن ناز میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے