جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایہ ناز میں
جو نصیب ہو تو شمار ہو یہ نیاز مایہ ناز میں
کہ لگی ہو خاک در حضور مری جبین نیاز میں
کہیں لعل ہے تو کہیں گہر، کہیں شمس ہے تو کہیں قمر
یہ اسی کا حُسن ہے جلوہ گر جو نہاں ہے پردہ راز میں
تری ذات شانِ کمال رب، ترا حسن ہے وہ مہ عرب
کہ سوئی سے شئے ملی وقت شب ترے اک تبسم ناز میں
رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں، نہ دکان آئینہ سازمیں
مجھے کام کیا تھا رکوع سے مجھے ہوش کیا تھا سجود کا
ترے نقش پاکی تلاش تھی ہو جھکا ہوا تھا نماز میں
ترے لطفؔ کی ہے یہ آرزو کہ نہ جائے حشر میں آبرو
مرے پردہ پوش چھپا لے تو اسے اپنے دامن ناز میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.