یادِ سرکار کو سینے سے لگا رکھا ہے
یادِ سرکار کو سینے سے لگا رکھا ہے
ہم نے ویرانے میں گلزار کھلا رکھا ہے
بات بن جائے اگر چشمِ عنایت ہو جائے
ورنہ اس ہستیِ موہوم میں کیا رکھا ہے
نامِ محبوبِ دو عالم ہے سہارا سب کا
ہم نے اس نام کا ہی ورد صدا رکھا ہے
شہرِ رحمت میں جو دیکھا تھا میری آنکھوں نے
خلوتِ جاں میں وہی نقش سجا رکھا ہے
مجھ کو اللہ نے ہر دم سے کیا ہے آزاد
نام اس ذاتِ گرامی سے لگا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.