Font by Mehr Nastaliq Web

امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں

جمیل قادری

امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں

    جمیلِ قادری شاید حبیبِ حق بلاتے ہیں

    جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھر میں

    وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں

    انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرشِ اعظم کا

    تری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں

    مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آ کر

    غبارِ فرشِ طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں

    خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا

    مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں

    شہِ طیبہ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں

    جلا دیتے ہیں مردوں کو وہ جس دم لب ہلاتے ہیں

    مرے مولیٰ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں

    وہ جس کو چاہتے ہیں شاہ دم بھر میں بناتے ہیں

    مدینے کی طلب میں جو نہیں لیتے ہیں جنت کو

    انہیں تشریف لا کر حضرت رضواں مناتے ہیں

    تصدق جانِ عالم اس کریمی اور رحیمی کے

    گنہ کرتے ہیں ہم وہ اپنی رحمت سے چھپاتے ہیں

    جمیلؔ قادری کو دیکھ کر حوروں میں غل ہوگا

    یہی ہیں وہ کہ جو نعتِ حبیبِ حق سناتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے