امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیں
جمیلِ قادری شاید حبیبِ حق بلاتے ہیں
جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھر میں
وہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں
انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرشِ اعظم کا
تری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں
مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آ کر
غبارِ فرشِ طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں
خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگا
مدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں
شہِ طیبہ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں
جلا دیتے ہیں مردوں کو وہ جس دم لب ہلاتے ہیں
مرے مولیٰ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میں
وہ جس کو چاہتے ہیں شاہ دم بھر میں بناتے ہیں
مدینے کی طلب میں جو نہیں لیتے ہیں جنت کو
انہیں تشریف لا کر حضرت رضواں مناتے ہیں
تصدق جانِ عالم اس کریمی اور رحیمی کے
گنہ کرتے ہیں ہم وہ اپنی رحمت سے چھپاتے ہیں
جمیلؔ قادری کو دیکھ کر حوروں میں غل ہوگا
یہی ہیں وہ کہ جو نعتِ حبیبِ حق سناتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.