آج پھر طبع رسا کا مری امڈا بادل
آج پھر طبع رسا کا مری امڈا بادل
دیکھیں برساتا ہے کیسے دُریکتا بادل
خاک برسے گا بھلا نام کو نم اس میں نہیں
ابر مدرار جو تھا اب ہے وہ سوکھا بادل
سرد مہری تو یہ دیکھو جو کچھ آیا بھی کبھی
گر گیا کٹ کے سحر ہوتے ہی پالا بادل
مانگتا ہے یہ دعا خشک زباں سے سبزہ
بھیج یا رب کسی جانب سے برستا بادل
مجھ سے کیا ضد ہے کہ اک قطرہ کو ترساتا ہے
بن گیا حق میں مرے کافر ترسا بادل
۔۔
ان کے بے صبری کا باعث ہے توکل جو نہیں
اس لیے کہتی ہے مخلوق نہ برسا بادل
نظر ظاہر عالم میں ہیں یہ مینہ کے سبب
ورنہ کیا شئے ہے ہوا اور ہے کیسا بادل
دل میں انصاف کرو اس کی شکایت کیا ہے
کہ ہے محکوم خداوند تعالیٰ بادل
وہی خالق ہے وہی مالک و حاکم سب کا
اس کی قدرت کا ہے ادنیٰ سا نمونا بادل
ایک دم میں یہ لگاوے ابھی ساون کی جھڑی
حکم کا اس کے جو پاجائے اشارہ بادل
سب دعا مل کے کرو باب اجابت وا ہے
اپنی رحمت سے وہ بھیجے گا نہیں کیا بادل
لو مبارک ہو دعا خلق کی مقبول ہوئی
کہ گرجتا ہوا اک سمت سے اٹھا بادل
مینہ کے آثار نمایاں ہیں ہوا بدلی ہے
وہ چلا آتا ہے دیکھو تو برستا بادل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.