ہر سمت ضیا ان کی ہر جا یہی چرچا ہے
ہر سمت ضیا ان کی ہر جا یہی چرچا ہے
حضرت کا رخِ اقدس اک نور کا دریا ہے
خوں خواروں کو بھی جس نے غم خوار بنایا ہے
وہ رحمتِ عالم ہے دنیا کا مسیحا ہے
عاجز ہیں فرشتے بھی توصیفِ محمد میں
اربابِ بصیرت کو کس بات کا دعویٰ ہے
لاثانی ہے جو دی ہے تعلیم محمد نے
دیوانہ ہوں میں اس کا تو اس میں عجب کیا ہے
بے وجہ نہیں ہر گز طیبہ کی لگن دل میں
محسوس یہ ہوتا ہے رحمت نے پکارا ہے
طیبہ کی تمنا ہے مدت سے کنولؔ تجھ کو
انجام خدا جانے آغاز تو اچھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.