نازاں ہے جس پہ حسن وہ حسن_رسول ہے
نازاں ہے جس پہ حسن وہ حسن رسول ہے
یہ کہکشاں تو آپ کے قدموں کی دھول ہے
اے رہروان شوق یہاں سر کے بل چلو
طیبہ کے راستے کا تو کانٹا بھی پھول ہے
ہر اک قدم پہ اس میں ضروری ہے احتیاط
عشق بتاں نہیں ہے یہ عشق رسول ہے
زاہد خیال پیروی مصطفیٰ رہے
پھر اس کے بعد تیری عبادت قبول ہے
منبر ہو یا کہ دار نہ جائے گی یاد یار
اے دل یہ اہل عشق و وفا کا اصول ہے
باطل کے سامنے نہ جھکاؤں گا سر کبھی
میری نظر میں اسوۂ ابن بتول ہے
آئین مصطفیٰ کے سوا حل مشکلات
یہ عقل کا فریب نگاہوں کی بھول ہے
اس پر نزول رحمت پروردگار ہو
کوثرؔ فراق دوست میں جو دل ملول ہے
- کتاب : کلام کوثر نیازی (Pg. 21)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.