نفس نفس میں بسا چکا ہوں میں جب سے اس پیرہن کی خوشبو
نفس نفس میں بسا چکا ہوں میں جب سے اس پیرہن کی خوشبو
دلِ پریشاں میں خار بن کر کھٹک رہی ہے چمن کی خوشبو
ہوا میں رقصاں ہیں مستیاں سی مجھے سنبھالو بہک نہ جاؤں
نسیم گلشن سے لا رہی ہے کسی کے نازک بدن کی خوشبو
ہزار جھومیں ہزار گائیں ہزار قلب و نظر پہ چھائیں
کہاں سے لائیں گے مست جھونکے مگر ترے بانکپن کی خوشبو
وہ اور ہوں گے جنہیں یہ منظر پیام حرماں و یاس دے گا
مجھے تو ظلماتِ شب سے آتی ہے ایک روشن کرن کی خوشبو
میں قید میں ہوں مگر تخیل پہ کون پہرے بٹھا سکے گا
اڑا کے لے جائے گی جہاں میں ہوا مرے فکر و فن کی خوشبو
- کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 72)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.