Font by Mehr Nastaliq Web

نفس نفس میں بسا چکا ہوں میں جب سے اس پیرہن کی خوشبو

کوثر نیازی

نفس نفس میں بسا چکا ہوں میں جب سے اس پیرہن کی خوشبو

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    نفس نفس میں بسا چکا ہوں میں جب سے اس پیرہن کی خوشبو

    دلِ پریشاں میں خار بن کر کھٹک رہی ہے چمن کی خوشبو

    ہوا میں رقصاں ہیں مستیاں سی مجھے سنبھالو بہک نہ جاؤں

    نسیم گلشن سے لا رہی ہے کسی کے نازک بدن کی خوشبو

    ہزار جھومیں ہزار گائیں ہزار قلب و نظر پہ چھائیں

    کہاں سے لائیں گے مست جھونکے مگر ترے بانکپن کی خوشبو

    وہ اور ہوں گے جنہیں یہ منظر پیام حرماں و یاس دے گا

    مجھے تو ظلماتِ شب سے آتی ہے ایک روشن کرن کی خوشبو

    میں قید میں ہوں مگر تخیل پہ کون پہرے بٹھا سکے گا

    اڑا کے لے جائے گی جہاں میں ہوا مرے فکر و فن کی خوشبو

    مأخذ :
    • کتاب : Zar-e-Gul (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے