منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں
منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں
دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں
ہر نعمت کونین ہے دامن میں ہمارے
ہم صدقۂ محبوب خدا مانگ رہے ہیں
اے درد محبت ابھی کچھ اور فزوں ہو
دیوانے تڑپنے کی ادا مانگ رہے ہیں
یوں کھو گئے سرکار کے الطاف و کرم میں
یہ بھی تو نہیں ہوش کہ کیا مانگ رہے ہیں
اسرار کرم کے فقط ان پر ہی کھلے ہیں
جو تیرے وسیلے سے دعا مانگ رہے ہیں
سرکار کا صدقہ میرے سرکار کا صدقہ
محتاج و غنی شاہ و گدا مانگ رہے ہیں
اس دور ترقی میں بھی ذہنوں کے اندھیرے
خورشید رسالت کی ضیا مانگ رہے ہیں
یہ مان لیا ہے کہ تیرا درد ہے درماں
طالب ہیں شفا کے نہ دوا مانگ رہے ہیں
ہم کو بھی ملے دولت دیدار کا صدقہ
دیدار کی جرأت بھی شہا مانگ رہے ہیں
کم مانگ رہے ہیں نہ سوا مانگ رہے ہیں
جیسا ہے غنی ویسی عطا مانگ رہے ہیں
سرکار سے سرکار کو مانگا نہیں جاتا
اتنی بڑی سرکار سے کیا مانگ رہے ہیں
دامان عمل میں کوئی نیکی نہیں خالدؔ
بس نعت محمد کا صلہ مانگ رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.