وہ دن پھر آگیا ہے ساقیا میرے مقدر سے
وہ دن پھر آگیا ہے ساقیا میرے مقدر سے
سجا دے آج تو پھر اپنا میخانہ نئے سر سے
وہ سب پی جاؤں گا اترانشہ ہے اک برس بھر سے
تو رکھ دے بھر کے ساقی بارہ پیمانے برابر سے
تجھے ساقی گری پر ناز ہے پھر مجھ سے کیا ہوگا
ترے اک ساغرِ مے کے لیے میری بلا تر سے
پلانا ہی تجھے منظور ہے پی لوں گا میں لیکن
تو پہلے اپنا ساغر دھولے جا کے آبِ کوثر سے
پلا پھر ساقیا جس میں گل تر جس کی خوشبو ہو
وہی مے بارہا جو مس ہوئی زہرا کی چادر سے
وہی مے جس سے حیدر نے بھرا تھا اپنا خم خانہ
وہی مے دے مجھے بنیاد جس کی ہے پیمبر سے
تمنا دل کی ہے سرمہ بنا لوں بدرؔ آنکھوں کا
کہیں مل جائے خاک پائے حیدر جو مقدر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.