Font by Mehr Nastaliq Web

وہ دن پھر آگیا ہے ساقیا میرے مقدر سے

خورشید حسین بدر

وہ دن پھر آگیا ہے ساقیا میرے مقدر سے

خورشید حسین بدر

MORE BYخورشید حسین بدر

    وہ دن پھر آگیا ہے ساقیا میرے مقدر سے

    سجا دے آج تو پھر اپنا میخانہ نئے سر سے

    وہ سب پی جاؤں گا اترانشہ ہے اک برس بھر سے

    تو رکھ دے بھر کے ساقی بارہ پیمانے برابر سے

    تجھے ساقی گری پر ناز ہے پھر مجھ سے کیا ہوگا

    ترے اک ساغرِ مے کے لیے میری بلا تر سے

    پلانا ہی تجھے منظور ہے پی لوں گا میں لیکن

    تو پہلے اپنا ساغر دھولے جا کے آبِ کوثر سے

    پلا پھر ساقیا جس میں گل تر جس کی خوشبو ہو

    وہی مے بارہا جو مس ہوئی زہرا کی چادر سے

    وہی مے جس سے حیدر نے بھرا تھا اپنا خم خانہ

    وہی مے دے مجھے بنیاد جس کی ہے پیمبر سے

    تمنا دل کی ہے سرمہ بنا لوں بدرؔ آنکھوں کا

    کہیں مل جائے خاک پائے حیدر جو مقدر سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے