وہ جس نے اک نیا اسلوب بخشا ذہنِ دل کو
وہ جس نے اک نیا اسلوب بخشا ذہنِ دل کو
وہ جس نے اک حیاتِ جاوداں دی بزمِ امکاں کو
فضائے جہل کو جس نے ضیائے علم و حکمت دی
وہ جس نے عام فرمایا جہاں میں نورِ عرفاں کو
علم بردارِ تہذیب و تمدن نے بہر صورت
سنوارا ہر جہت سے وقت کی زلفِ پرشاں کو
جو تھے گمراہ بالآخر وہ راہِ راست پر آئے
بحکمِ ایزدی دانا بنایا جس نے ناداں کو
نہ ہوتی گر نگاہِ لطف اس کی ڈوب ہی جاتی
بغیر لمس ہی اس نے ابھارا نبضِ دوراں کو
کلامِ حق سنایا اہلِ مکہ کو بایں صورت
بلند آہنگ سے منبر بنایا کوہِ فاراں کو
سلام ایسے رسولِ محترم پر کیوں نہ بھیجیں ہم
ہے جس کے دم سے لیثؔ اب تک، بلند اسلام کا پرچم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.