Font by Mehr Nastaliq Web

الٰہی کب دلی مطلب کو پہنچوں

مہدی حسن حیرت

الٰہی کب دلی مطلب کو پہنچوں

مہدی حسن حیرت

MORE BYمہدی حسن حیرت

    الٰہی کب دلی مطلب کو پہنچوں

    کب ایسا ہو کہ میں یثرب کو پہنچوں

    شب اول اگر بطحیٰ سے نکلوں

    مدینہ دوسری ہی شب کو پہنچوں

    پہنچا دے اب مجھے یثرب خدایا

    طفیل مصطفیٰ مطلب کو پہنچوں

    کھنچا جاتا ہے ہرد م جذبۂ دل

    عجب کیا ہے جو میں یثرب کو پہنچوں

    تمنا ہے کہ سر آنکھوں سے چل کر

    دلا کوئے حبیب رب کو پہنچوں

    بلائیں جب مجھے سردار عالم

    تو پھر کیوں کر نہ میں یثرب کو پہنچوں

    نہ ہوگر وصل بیداری میں حاصل

    کبھی تو خواب میں واں شب کو پہنچوں

    حسنؔ پر گر کرے تو فضل اپنا

    بشکل قیس پھر یثرب کو پہنچوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے