الٰہی کب دلی مطلب کو پہنچوں
الٰہی کب دلی مطلب کو پہنچوں
کب ایسا ہو کہ میں یثرب کو پہنچوں
شب اول اگر بطحیٰ سے نکلوں
مدینہ دوسری ہی شب کو پہنچوں
پہنچا دے اب مجھے یثرب خدایا
طفیل مصطفیٰ مطلب کو پہنچوں
کھنچا جاتا ہے ہرد م جذبۂ دل
عجب کیا ہے جو میں یثرب کو پہنچوں
تمنا ہے کہ سر آنکھوں سے چل کر
دلا کوئے حبیب رب کو پہنچوں
بلائیں جب مجھے سردار عالم
تو پھر کیوں کر نہ میں یثرب کو پہنچوں
نہ ہوگر وصل بیداری میں حاصل
کبھی تو خواب میں واں شب کو پہنچوں
حسنؔ پر گر کرے تو فضل اپنا
بشکل قیس پھر یثرب کو پہنچوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.