پردۂ ظلمت سے چمکا ناگہاں اک ماہتاب
پردۂ ظلمت سے چمکا ناگہاں اک ماہتاب
معرفت کے نور سے دل جس کا رشک آفتاب
فضلِ یزداں سے عرب میں آگیا اک انقلاب
لائے پیغامِ بقا پیغمبر عرفاں اساس
رہبر کامل رہِ حق کے رسولِ حق شناس
ہوگئے دل پاک جوشِ بارشِ الہام سے
وحدت ملت بڑھی توحید کے پیغام سے
آشنا ہونے لگی خلقت خدا کے نام سے
ہوتے ہوتے دل منور خلق کے ہوتے گئے
ریگ زاروں میں عرب کے تخمِ حق بوتے گئے
دل جو تھے بیگانۂ عشق و محبت آج تک
تھیں جو نظریں نا شناسِ نورِ وحدت آج تک
سرد جن لوگوں کا تھا جذب اخوت آج تک
اب انہیں احساس شان ظلِ قدرت ہو چکا
قلب ہر اک واقفِ رمزِ طریقت ہو چکا
جاگ اٹھے دل ضمیروں کو ملی رخشند گی
مردنی مٹنے لگی اب زندگی تھی زندگی
نور سے سینے منور ذہن میں تابندگی
اب عرب کے دشت و صحرا گلشنِ فردوس تھے
جلوۂ توحید سے پرنور کالے کوس تھے
روشنی ماہِ عرب کی دور تک جانے لگی
رفتہ رفتہ اس سے اک دنیا ضیا پانے لگی
مسلکِ اسلام پر خلقت یقیں لانے لگی
امتیازِ حق و باطل کا ہوا پیدا شعور
تیرگی دل کی مٹی باطن میں چمکی شمعِ نور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.