رکھتے ہیں میرے آقا سارے جہاں کی خبریں
رکھتے ہیں میرے آقا سارے جہاں کی خبریں
تحت الثریٰ سے لے کر ہر آسماں کی خبریں
جل جائیں جس سے آگے روح الامیں کے پر بھی
سرکار جانتے ہیں بےشک وہاں کی خبریں
احوالِ عرش و کرسی میزان و پل سے واقف
کیں مرحمت خدا نے ان کو جناں کی خبریں
افلاک کی مسافت کتنی ہے کتنے تارے
سرکار جانتے ہیں ہر کہکشاں کی خبریں
وہ نیک یا کہ بد ہے انجام اس کا کیا ہے
مولا نے ان کو دی ہیں ہر انس و جاں کی خبریں
ہو کر رہیں گی پوری لاریب ہیں وہ سچی
دیکھے گا سارا عالم کن کی زباں کی خبریں
آئیں گے ابنِ مریم حضرت امامِ مہدی
سرکار دے رہے ہیں ہر ہر نشاں کی خبریں
احوال سب عیاں ہیں سرکار دے رہے ہیں
جنگ و جدل کی خبریں امن و اماں کی خبریں
مرزاؔ یہی عقیدہ دل میں بسائے رکھنا
ہو کر رہیں گی ظاہر اس غیب داں کی خبریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.