مل گئے گر ان کی رحمت کے نقوش
مل گئے گر ان کی رحمت کے نقوش
نقش ہیں یہ راہِ جنت کے نقوش
ہر زمانے کی زباں میں پاؤ گے
تم مرے آقا کی مدحت کے نقوش
حسن خود ہی دیکھ کر حیران ہے
رب کے پیارے کی ملاحت کے نقوش
بے شبہ جملہ جہانوں کے لیے
ہیں مرے آقا کی مدحت کے نقوش
عرش سے بھی پار پہنچے لامکاں
چھا گئے آقا کی رفعت کے نقوش
بس خیالی روشنی مغرب کی ہے
ہیں سراسر اس میں ظلمت کے نقوش
سیرتِ خیرالوریٰ اپنائیے
اس میں ہیں انساں کی عظمت کے نقوش
میرے آقا کے سبھی اصحاب ہیں
منزلِ رشد و ہدایت کے نقوش
بو بکر، فاروق، عثمان و علی
خوب ہیں ان کی خلافت کے نقوش
دیکھ لے آکر درِ خیرالوریٰ
دیکھنے ہوں جس کو جنت کے نقوش
ذکرِ آقا کو وظیفہ کیجیے
زندگی میں ہوں گے راحت کے نقوش
ان کے دامن سے رہے وابستگی
حشر تک ہوں ساتھ نسبت کے نقوش
در پہ پھر مرزاؔ کو بلوا لیجیے
یا نبی مٹ جائیں فرقت کے نقوش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.