Font by Mehr Nastaliq Web

مل گئے گر ان کی رحمت کے نقوش

مرزا جاوید بیگ

مل گئے گر ان کی رحمت کے نقوش

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    مل گئے گر ان کی رحمت کے نقوش

    نقش ہیں یہ راہِ جنت کے نقوش

    ہر زمانے کی زباں میں پاؤ گے

    تم مرے آقا کی مدحت کے نقوش

    حسن خود ہی دیکھ کر حیران ہے

    رب کے پیارے کی ملاحت کے نقوش

    بے شبہ جملہ جہانوں کے لیے

    ہیں مرے آقا کی مدحت کے نقوش

    عرش سے بھی پار پہنچے لامکاں

    چھا گئے آقا کی رفعت کے نقوش

    بس خیالی روشنی مغرب کی ہے

    ہیں سراسر اس میں ظلمت کے نقوش

    سیرتِ خیرالوریٰ اپنائیے

    اس میں ہیں انساں کی عظمت کے نقوش

    میرے آقا کے سبھی اصحاب ہیں

    منزلِ رشد و ہدایت کے نقوش

    بو بکر، فاروق، عثمان و علی

    خوب ہیں ان کی خلافت کے نقوش

    دیکھ لے آکر درِ خیرالوریٰ

    دیکھنے ہوں جس کو جنت کے نقوش

    ذکرِ آقا کو وظیفہ کیجیے

    زندگی میں ہوں گے راحت کے نقوش

    ان کے دامن سے رہے وابستگی

    حشر تک ہوں ساتھ نسبت کے نقوش

    در پہ پھر مرزاؔ کو بلوا لیجیے

    یا نبی مٹ جائیں فرقت کے نقوش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے