حق سے بندوں کو ملایا آپ نے
حق سے بندوں کو ملایا آپ نے
نارِ دوزخ سے بچایا آپ نے
منبعِ انوار ہے ذات آپ کی
ظلمتوں کو ہے مٹایا آپ نے
لڑتے مرتے تھے جو ایک اک بات پر
قلب کو ان کے ملایا آپ نے
جو کسی سے ہو سکا نہ ہو سکے
کام وہ کر کے دکھایا آپ نے
اختیار ایسا خدا نے دے دیا
ڈوبے سورج کو پھرایا آپ نے
آخری حج رہنما آئین ہے
دل نشیں خطبہ سنایا آپ نے
اس کو دنیا میں شہنشاہی ملی
ہے گدا جس کو بنایا آپ نے
کوئی داتا اور کوئی خواجہ بنا
رنگ ہے جس پر چڑھایا آپ نے
دو جہاں میں اٹھ نہیں سکتا کبھی
جس کو نظروں سے گرایا آپ نے
بس وہی عاشق مدینے جا سکا
جس کسی کو ہے بلایا آپ نے
آسرا مرزاؔ کی بخشش کا ہوا
مدح خواں اپنا بنایا آپ نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.