اگر دل میں شہنشاہِ مدینہ کی محبت ہے
اگر دل میں شہنشاہِ مدینہ کی محبت ہے
یہی ایمان کا مقصود ہے اور راہِ جنت ہے
دلوں کو اپنے ان کی یاد سے معمور تم رکھنا
سکونِ زندگانی ذکرِ آقا کی بدولت ہے
ہجومِ ابتلا و غم اگرچہ ہے تو کیا پروا
مرے احوال سے شاہِ زمن کو واقفیت ہے
مزین ان کی سیرت سے کرو تم زندگی اس میں
نجات و کامرانی ہے بشر کی سالمیت ہے
کرم سے ان کے جو لمحات طیبہ میں گزارے ہیں
انہیں لمحات کا ہر پل مرے دل میں ودیعت ہے
دیا آقا نے جو حج الوداع میں آخری خطبہ
نہایت دل نشیں باتیں ہیں ان میں جامعیت ہے
نبی کے چار یاروں کی ہر اک خوبی نرالی ہے
صداقت ہے عدالت ہے سخاوت ہے شجاعت ہے
تجھے کیا خوف محشر کا تری بگڑی بنانے کو
شفیعِ عاصیاں کی جب کہ اے مرزاؔ شفاعت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.