نہیں پائی کہیں ہم نے مثالِ حضرتِ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ : یہ مشاعرہ مؤرخہ ۳ مارچ ۱۹۵۱ء بروز سنیچر، عیدگاہ میدان، کراچی میں حضرت قاتلؔ اجمیری کی سہ ماہی فاتحہ کے موقع پر منعقد ہوا تھا، اس موقع کے لیے مصرعِ طرح ’’جمالِ غوث الاعظم ہے جمالِ حضرتِ قاتل‘‘ حضرت عبدالرحیم ارمانؔ اجمیری نے پیش کیا اور اس مشاعرہ کی صدارت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل تھا۔
نہیں پائی کہیں ہم نے مثالِ حضرتِ قاتل
جمالِ غوث اعظم ہے جمالِ حضرتِ قاتل
وہ خضرِ منزلِ راہِ طریقت رہبرِ عرفاں
خدا کی یاد ہے گویا خیالِ حضرتِ قاتل
تصور میں انہیں کے رات دن ہم محو رہتے ہیں
گیا ہے اور نہ جائے گا خیالِ حضرتِ قاتل
جہاں پر نور ہے انوارِ خورشیدِ ولایت سے
ازل سے میں ہوں شیدائی جمالِ حضرتِ قاتل
کرشمہ ان کا ہرشے میں نظر آئے گا اے زاہد
بصیرت سے کوئی دیکھے کمال حضرت قاتل
بیان حسنِ سیرت کیا ہو میرے پیر کامل کا
کہ خلقِ مصطفائی ہے خصالِ حضرتِ قاتل
یقیں ہے شورؔ کہ ایمان پر ہی خاتمہ ہوگا
دمِ نزع اگر آیا خیالِ حضرتِ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 34)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.