Font by Mehr Nastaliq Web

نہیں پائی کہیں ہم نے مثالِ حضرتِ قاتل

محمد اسمٰعیل شورؔ

نہیں پائی کہیں ہم نے مثالِ حضرتِ قاتل

محمد اسمٰعیل شورؔ

MORE BYمحمد اسمٰعیل شورؔ

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : یہ مشاعرہ مؤرخہ ۳ مارچ ۱۹۵۱ء بروز سنیچر، عیدگاہ میدان، کراچی میں حضرت قاتلؔ اجمیری کی سہ ماہی فاتحہ کے موقع پر منعقد ہوا تھا، اس موقع کے لیے مصرعِ طرح ’’جمالِ غوث الاعظم ہے جمالِ حضرتِ قاتل‘‘ حضرت عبدالرحیم ارمانؔ اجمیری نے پیش کیا اور اس مشاعرہ کی صدارت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل تھا۔

    نہیں پائی کہیں ہم نے مثالِ حضرتِ قاتل

    جمالِ غوث اعظم ہے جمالِ حضرتِ قاتل

    وہ خضرِ منزلِ راہِ طریقت رہبرِ عرفاں

    خدا کی یاد ہے گویا خیالِ حضرتِ قاتل

    تصور میں انہیں کے رات دن ہم محو رہتے ہیں

    گیا ہے اور نہ جائے گا خیالِ حضرتِ قاتل

    جہاں پر نور ہے انوارِ خورشیدِ ولایت سے

    ازل سے میں ہوں شیدائی جمالِ حضرتِ قاتل

    کرشمہ ان کا ہرشے میں نظر آئے گا اے زاہد

    بصیرت سے کوئی دیکھے کمال حضرت قاتل

    بیان حسنِ سیرت کیا ہو میرے پیر کامل کا

    کہ خلقِ مصطفائی ہے خصالِ حضرتِ قاتل

    یقیں ہے شورؔ کہ ایمان پر ہی خاتمہ ہوگا

    دمِ نزع اگر آیا خیالِ حضرتِ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 34)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے