Font by Mehr Nastaliq Web

آپ کو واقف کیا خالق نے ان اسرار کا

معین الدین مرادآبادی

آپ کو واقف کیا خالق نے ان اسرار کا

معین الدین مرادآبادی

MORE BYمعین الدین مرادآبادی

    آپ کو واقف کیا خالق نے ان اسرار کا

    ذہن بھی پہنچا نہیں جس میں کسی ہشیار کا

    نور شہ سے ہے یہ عالم ہر در و دیوار کا

    کوئی طیبہ پر گماں ہے مصر کے بازار کا

    کیا بیاں ہو تیرے تو سن کا شبِ معراج میں

    برق کرتی تھی تماشا سرعتِ رفتار کا

    گر کبھی تیر نگہ سے ہوں ادھر ناوک فگن

    منہ لبِ زخم جگر سے چوم لوں سوفار کا

    کیوں نہ ہو ان کے سبب سے دونوں عالم پر ضیا

    ذاتِ احمد پر توا ہے حضرت غفار کا

    روز و شب نظارہ کرتے اس رخِ گیسو کا ہم

    کاش ہوتی آنکھ آئینہ شہِ ابرار کا

    داغ عشقِ مصطفیٰ دل میں ہوا اچھا ہوا

    چارہ گر خواہاں نہیں میں مرہمِ زنگار کا

    آپ فرمائیں لبِ اعجاز سے گر آمنوا

    قطع کر دے برہمن رشتہ ابھی زنار کا

    دستِ وحشت سے برابر ہم لیے جائیں گے کام

    نام بھی جب تک گریباں میں رہے گا تار کا

    ذکر پاکِ شاہ نے بخشا ہے یہ ربتہ مجھے

    شور ہے چاروں طرف نزہتؔ مرے اشعار کا

    مأخذ :
    • کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 42)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے