آپ کو واقف کیا خالق نے ان اسرار کا
آپ کو واقف کیا خالق نے ان اسرار کا
ذہن بھی پہنچا نہیں جس میں کسی ہشیار کا
نور شہ سے ہے یہ عالم ہر در و دیوار کا
کوئی طیبہ پر گماں ہے مصر کے بازار کا
کیا بیاں ہو تیرے تو سن کا شبِ معراج میں
برق کرتی تھی تماشا سرعتِ رفتار کا
گر کبھی تیر نگہ سے ہوں ادھر ناوک فگن
منہ لبِ زخم جگر سے چوم لوں سوفار کا
کیوں نہ ہو ان کے سبب سے دونوں عالم پر ضیا
ذاتِ احمد پر توا ہے حضرت غفار کا
روز و شب نظارہ کرتے اس رخِ گیسو کا ہم
کاش ہوتی آنکھ آئینہ شہِ ابرار کا
داغ عشقِ مصطفیٰ دل میں ہوا اچھا ہوا
چارہ گر خواہاں نہیں میں مرہمِ زنگار کا
آپ فرمائیں لبِ اعجاز سے گر آمنوا
قطع کر دے برہمن رشتہ ابھی زنار کا
دستِ وحشت سے برابر ہم لیے جائیں گے کام
نام بھی جب تک گریباں میں رہے گا تار کا
ذکر پاکِ شاہ نے بخشا ہے یہ ربتہ مجھے
شور ہے چاروں طرف نزہتؔ مرے اشعار کا
- کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 42)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.