Font by Mehr Nastaliq Web

اب نہیں دل میں کسی بت کا خیال

معین الدین مرادآبادی

اب نہیں دل میں کسی بت کا خیال

معین الدین مرادآبادی

MORE BYمعین الدین مرادآبادی

    اب نہیں دل میں کسی بت کا خیال

    شکر ایزد ہے بہت اچھا خیال

    دل پہ ذکرِ شمع روئے یار سے

    نور برسانے لگا میرا خیال

    اتحادِ قلب ہو جب یار سے

    غیر کا جانب نہیں ہوتا خیال

    عارض و گیسو جو ہیں مدِ نظر

    ہے نہایت خوب اور زیبا خیال

    کھل گئے اسرار مخفی یک بیک

    ہم نے جب دلدار کا باندھا خیال

    دلربا ہو جب حجاب اندر حجاب

    جاسکے واں پھر کہو کس کا خیال

    مأخذ :
    • کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 58)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے