میرا قلم ہے نعت کے اظہار کے قریب
میرا قلم ہے نعت کے اظہار کے قریب
لگتا ہے آج میں بھی ہوں سرکار کے قریب
جس کو عروج رف رفِ نعتِ حضور دے
ہو کیوں نہ عرشِ بخششِ غفار کے قریب
شادابیاں نثار نے خضریٰ کے حسن پر
جنت کھڑی ہے روضۂ سرکار کے قریب
ابرِ کرم کا ہالہ ہو جس طرح گردِ ماہ
چھائی ہے زلف یوں رخِ دلدار کے قریب
گھیرے ہیں پھول خارِ مدینہ کو اس طرح
پیاسے ہوں جیسے ساغرِ سرشار کے قریب
حاجت نہیں ہے چاند کی طیبہ میں رات کو
کیا کم ہے نور گنبد و مینار کے قریب
چھینٹا نویدِ وصل کا دے دے سحابِ جود
آبِ شفا ہو ہجر کے بیمار کے قریب
خوشبو میں بس گئی ہے قبائے حیاتِ کل
گھڑیاں گزاریں چند جو عطار کے قریب
فیضِ ثنائے گل ہے معظمؔ کہ خود چمن
ہیں کسبِ فیض کو مرے اشعار کے قریب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.