نطقِ حق تیری بات اے طویل السکوت
نطقِ حق تیری بات اے طویل السکوت
خامشی سرِ ذات اے طویل السکوت
افصحِ خلق مصدر بلاغت کا ہے
آپ کی بات بات اے طویل السکوت
عالمِ واجب و ممتنع آپ ہیں
مالکِ ممکنات اے طویل السکوت
دے رہا ہوں تری یاد کی فوج سے
لشکرِ غم کو مات اے طویل السکوت
تیرے گیسوئے مشکیں سے ہیں فیضیاب
یہ گھٹا مشک رات اے طویل السکوت
ہو مری گفتگو مختصر اور مفید
لغو سے دے نجات اے طویل السکوت
ہوں عطا مجھ کو روزانہ اشعارِ نعت
کم سے کم پانچ سات اے طویل السکوت
روزِ محشر معظمؔ کے غیرِ ثنا
نہ کھلیں پرچہ جات اے طویل السکوت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.