ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا
ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا
بلبل کو ترنم تری تدویر سے پہنچا
اے افصحِ مخلوق سرِ عرشِ بلاغت
جبریلِ تکلم تری تقریر سے پہنچا
ہے خضر سرِ چاہِ مہِ مصر کہ وہ خط
تا چاہِ ذقن عارضِ تنویر سے پہنچا
ہم وقت کی افواجِ یزیدی کو مٹادیں
آلات شہا جذبۂِ شبیر سے پہنچا
ہے ذکرِ قیامت بھی ضروری پئے تخویف
ہم کو یہ سبق سورۂ تکویر سے پہنچا
ہے لازمِ ہر بزم رسالت کا بھی نعرہ
کب فیض فقط نعرۂ تکبیر سے پہنچا؟
کس صنف سے سرمایہ ادب کو ملا جیسا
اردو کو تری نعت کی تاثیر سے پہنچا
اس لوحِ معارف کی ثنا لکھنے کو جبریل
اقلام مجھے خامۂ تقدیر سے پہنچا
بس دیکھتا ہی رہ گیا طیبہ کو معظمؔ
پیرس سے گیا یا کوئی کشمیر سے پہنچا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.