Font by Mehr Nastaliq Web

ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا

معظم سدا معظمؔ

ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا

معظم سدا معظمؔ

MORE BYمعظم سدا معظمؔ

    ہر پھول کو فیضاں تری تعطیر سے پہنچا

    بلبل کو ترنم تری تدویر سے پہنچا

    اے افصحِ مخلوق سرِ عرشِ بلاغت

    جبریلِ تکلم تری تقریر سے پہنچا

    ہے خضر سرِ چاہِ مہِ مصر کہ وہ خط

    تا چاہِ ذقن عارضِ تنویر سے پہنچا

    ہم وقت کی افواجِ یزیدی کو مٹادیں

    آلات شہا جذبۂِ شبیر سے پہنچا

    ہے ذکرِ قیامت بھی ضروری پئے تخویف

    ہم کو یہ سبق سورۂ تکویر سے پہنچا

    ہے لازمِ ہر بزم رسالت کا بھی نعرہ

    کب فیض فقط نعرۂ تکبیر سے پہنچا؟

    کس صنف سے سرمایہ ادب کو ملا جیسا

    اردو کو تری نعت کی تاثیر سے پہنچا

    اس لوحِ معارف کی ثنا لکھنے کو جبریل

    اقلام مجھے خامۂ تقدیر سے پہنچا

    بس دیکھتا ہی رہ گیا طیبہ کو معظمؔ

    پیرس سے گیا یا کوئی کشمیر سے پہنچا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے