ہو جائے گی ہر شوکتِ شاہانہ سبوتاژ
ہو جائے گی ہر شوکتِ شاہانہ سبوتاژ
پر ہوگا مرے شاہ کا منگتا نہ سبوتاژ
دیوانۂ دل سر سوئے روضہ کرے ساجد
یا رب نہ ہو یہ جذبۂ مستانہ سبوتاژ
اے مظہرِ توحید ہر اک دور میں تجھ سے
کعبہ ہوا آباد صنم خانہ سبوتاژ
حاصل ہیں جو نعتِ گلِ طیبہ کی بہاریں
ایماں کا گلستاں کبھی ہوگا نہ سبوتاژ
اٹھے ہیں اگر ہاتھ ترے یادِ نبی سے
ہے زاہد ناداں تری دوگانہ سبوتاژ
یہ حصرِ رفعنا میں ہے وہ حکمِ فنا میں
مدحت کدہ آباد غزل خانہ سبوتاژ
انسان کو انسانی روش تو نے بتائی
اور کر دیے اطوارِ بہیمانہ سبوتاژ
بیمار و چلو بر درِ عیسائے مدینہ
تاحشر نہ ہوگا یہ شفا خانہ سبوتاژ
بجھنے کو نجوم و مہ و خور ہیں اے معظمؔ
ہوگی نہ مگر طلعتِ جانانہ سبوتاژ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.