بخشش کا نور لائی ہے صبحِ جمالِ یار
بخشش کا نور لائی ہے صبحِ جمالِ یار
شبنم میں جب نہائی ہے صبحِ جمالِ یار
رخصت ہوئی خزانِ شبی از پئے ابد
کیسی بہار لائی ہے صبح جمال یار
ظلماتِ حشر ہوں کہ شبِ فرقت و الم
ہر دم تری دہائی ہے صبحِ جمالِ یار
بدلی سے چاند نکلا ہے تو نے جو اک ذرا
چہرے سے شب ہٹائی ہے صبحِ جمالِ یار
کیوں ربِّ ذوالجلال کے زیرِ جلال ہوں
حصّے میں جن کے آئی ہے صبحِ جمالِ یار
تجھ پر وہ پیار آیا کہ رب نے بھی تیری شان
والفجر سے بتائی ہے صبحِ جمالِ یار
اپنا ہے کب یہ صبح کا نور و نشاط و حسن
سب تجھ سے مانگ لائی ہے صبح جمالِ یار
اشکوں کے کچھ چراغ سرِ شام جل اٹھے
دیدار کی دہائی ہے صبح جمالِ یار
تب سے بندھی ہے نور سے جب سے صباح نے
تیری قسم اٹھائی ہے صبحِ جمالِ یار
جنت میں شام کیوں ہو معظمؔ کہ جب وہاں
جوبن پہ اپنے آئی ہے صبحِ جمالِ یار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.