درود آپ کی نرمیٔ صلح جو پر
درود آپ کی نرمیٔ صلح جو پر
سلام آپ کی بخششِ عفو خو پر
سبھی طائرانِ سخن کہہ رہے ہیں
کہ یے عرشِ توصیف امکاں سے اوپر
کبھی ایسا مہکا ہوا چاند دیکھا
جسے پانے تارے چلیں اس کی بو پر
مجھے قطرۂِ جامِ شہ بس ہے دنیا
نہیں تھوکتا بھی میں تیرے سبو پر
اجالی ہے کربل میں جس نے شبِ دین
سلام آپ کے اس مہِ خوبرو پر
مدینے میں مچلو اے دیوانو لیکن
نظر بھی رہے حکمِ لا ترفعو پر
خدا یوں مٹا دے انائے معظمؔ
یہ قربان ہو جائے تذکارِ ھو پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.