میکدے سے نہ کوئی جام سے کام
میکدے سے نہ کوئی جام سے کام
ہم کو ہے مصطفیٰ کے نام سے کام
نور سے ربط کیا اندھیرے کو
نار کو کیا ترے غلام سے کام
رمز محبوب اور محب جانیں
ہے فرشتے کو بس پیام سے کام
ان کی تعظیم ہم نہ چھوڑیں گے
رکھ منافق تو اپنے کام سے کام
ذکرِ رخسار و زلف کرتے ہیں
ہم کو ہے یادِ صبح و شام سے کام
طالبانِ جمالِ یار کو کیا
حور مقصورہ فی الخیام سے کام
بابِ معراج میں نہیں اچھا
مبحثِ خرق و التیام سے کام
یادِ قد و دہان و زلف میں ہے
بس الف میم اور لام سے کام
منکرو تم کو بھی پڑے گا ضرور
روزِ محشر شہِ انام سے کام
ہو معظمؔ کوئی بھلا کہ برا
ان کو ہے صرف لطف عام سے کام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.