اللہ نے توقیر بڑھائی ترے در کی
اللہ نے توقیر بڑھائی ترے در کی
تابانیِٔ فردوس فدائی ترے در کی
آلائشِ دنیائے جہالت ہوئی نابود
جب دل نے کی تصویر کشائی ترے در کی
من زار سے عقدہ یہ کھلا اہلِ جہاں پر
ضامن ہے معافی کی رسائی ترے در کی
اللہ رے کیا شان و شرف حرمت و عظمت
جبریل بھی کرتا ہے گدائی ترے در کی
قرآں میں رفعنا لک ذکرک سے عیاں ہے
اللہ بھی کرتا ہے بڑائی ترے در کی
حالات ہیں ایسے کہ بتانے کے نہیں ہیں
آقائے کرم بس ہے دہائی ترے در کی
اللہ نے جنت سے حسیں تر کیا اس کو
صد رشک مہ و مہر ہے رائی ترے در کی
اک آرزوئے قلبِ حزیں حد سے سوا ہے
پلکوں سے ہو جاروب کشائی ترے در کی
صد ناز و بصد عجز کیا کرتے ہیں آقا
دنیا کے شہنشاہ گدائی ترے در کی
اے پیکر الطاف و عنایات شہنشاہ
قسمت ہو مری نغمہ سرائی ترے در کی
تا عمر رہوں شاہ میں تقدیر پہ نازاں
ہو جائے اگر مجھ کو رسائی ترے در کی
جو پہنچا ہے عاشق تری سرکار میں اس کو
برداشت نہیں ہوگی جدائی ترے در کی
شامل نہ ہو جس سینۂ ویراں میں ترا عشق
خوشبو بھی کبھی اس نے نہ پائی ترے در کی
مہتابِ زمانہ بھی منور ہے اسی سے
بے شک ہے جہاں جلوہ نمائی ترے در کی
آقا مجھے دنیا سے سروکار نہیں ہے
تنویر کچھ اس طور سمائی ترے در کی
دنیائے طلب کا تو شہنشاہ یگانہ
اشیائے جہاں ساری عطائی ترے در کی
شاہوں سے فزوں تر ہوئی اس شخص کی عظمت
تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
آقا یہی حسرت ہے بُہارے ترا کوچہ
آصفؔ کرے پلکوں سے صفائی ترے در کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.