Font by Mehr Nastaliq Web

حرم حضور کا باغ_ارم حضور کا ہے

محمد آصف نوری

حرم حضور کا باغ_ارم حضور کا ہے

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    حرم حضور کا باغ ارم حضور کا ہے

    ہر ایک ذرہ پہ لطف و کرم حضور کا ہے

    ہے کس کی ذات زمانے میں افضل و اعلیٰ

    ہے کس کا نام بڑا محترم حضور کا ہے

    خدائے کل کا کیا ان کو مالک و مختار

    جہان ہست کا ہر زیر و بم حضور کا

    بغیر ان کی اجازت نہ لب کشائی ہو

    ہر ایک سر ہوا جس در پہ خم حضور کا ہے

    جہاں پہ آتے ہیں قدسی جلوس کی صورت

    وہ کس کا در ہے در محترم حضور کا ہے

    ہر اک زمانہ ہوا فیضیاب جس در سے

    دیار پاک وہ رشک ارم حضور کا ہے

    رسائی سدرہ سے آگے نہ جبریل کی

    خدا کے عرش کے اوپر قدم حضور کا ہے

    بروز حشر شفاعت کو بس یہ کافی ہے

    ہمارے سینے میں راسخ جو غم حضور کا ہے

    وہ جس کے صدقے میں رب نے عطا کی ہریالی

    بہار و کرم و گل پر کرم حضور کا ہے

    سلیقہ مجھ میں ذرا بھی نہیں ہے مدحت کا

    یہ شعر و شاعری سب کچھ کرم حضور کا ہے

    ہمارا نقش کف پا نہیں ہے مٹی میں

    حجر فلک پہ نشان قدم حضور کا ہے

    عطائے باری تعالیٰ کہ عین رحم و کرم

    خیال امت عاصی پہ نم حضور کا ہے

    کریں گے داخلہ جنت میں ہم سے عاصی کا

    بروز حشر یہ لطف عام حضور کا ہے

    نہیں ہے ان سا کوئی بادشاہ دنیا میں

    تمام خلق پہ ظل کرم حضور کا ہے

    خلوص و پیار و وفا کے وہ ایسے پیکر ہیں

    کوئی نہ کہہ سکا مجھ پر ستم حضور کا ہے

    جہاں میں کریں تخصیص کیوں کسی کی جب

    غلام جو بھی ہے وہ محتشم حضور کا ہے

    جھکا سکا نہ جھکا پائے گا کبھی کوئی

    بلندیوں کا منارۂ علم حضور کا ہے

    مرا ٹھکانہ جہنم تھا پر ہوں جنت میں

    کرم یہ کس کا شفیع الامم حضور کا

    شعور و فکر ذرا بھی نہیں مرے اندر

    یہ مدح گوئی عطا و کرم حضور کا ہے

    مدینہ دیکھنے والے کہیں گے جنت میں

    حسین خلد سے بہتر حرم حضور کا ہے

    کمال و وصف خدا نے عطا کیا ان کو

    ہر ایک وصف وہ وصف اتم حضور کا ہے

    خدا نے بخشی ہدایت کی بے بہا توفیق

    پر اس میں کامل و اکمل کرم حضور کا ہے

    تخیلات کو شفاف کر لے اے آصفؔ

    تو کرنے والا قصیدہ رقم حضور کا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے