Font by Mehr Nastaliq Web

مسرت کیش وہ گام اپنی زندگی میں ہے

محمد آصف نوری

مسرت کیش وہ گام اپنی زندگی میں ہے

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    مسرت کیش وہ گام اپنی زندگی میں ہے

    شہنشاہ دو عالم کے جو عشق و آگہی میں ہے

    منور ہے مشامِ زندگی تنویر سے جن کے

    مہک ان کے پسینے کی چمن کی ہر کلی میں ہے

    گلسانِ جہاں کیا گلشنِ جنت ہے شیدائی

    کچھ ایسی شبنمی و لطف گیسوئے نبی میں ہے

    متاعِ عشقِ سرور داخلِ قلب و نظر کر لو

    طلسمی ارتقائے دین دنیا بس اسی میں ہے

    کہاں تو ڈھونڈنے نکلا ہے سوئے راغب و جوگی

    ارے ناداں ظفریابی کمالِ بندگی میں ہے

    نکالا چیر کر رستہ طلاطم خیز دریا سے

    اے فرعونیو! وہ طاقت عطائے موسوی میں ہے

    بہارِ باغِ جنت میں کہاں لطف و سرور ایسا

    جو سرکارِ دوعالم کے محلے اور گلی میں ہے

    تپش روزِ جزا کی کس طرح جھلسا سکے جس کو

    ردائے صاحبِ لولاک کی جو چھاؤنی میں ہے

    یزیدِ وقت اب کوئی بچا سکتا نہیں تجھ کو

    قضا مرقوم تیری ذوالفقار حیدری میں ہے

    بھلا کر آپ بیتی رشتۂ دل جوڑیے دل سے

    خسارہ ہی خسارہ اختلافی باہمی میں ہے

    عبادت کر ریاضت کر اطاعت دلِ آصفؔ

    سکون و آشتیِ دل خدا کی بندگی میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے