وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے
وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے
شہرِ سلطانِ مدینہ کی فضا ہی اور ہے
شاہِ بطحیٰ کی غلامی کا مزا ہی اور ہے
ان کی چوکھٹ پر جو آئے وہ قضا ہی اور ہے
کتنے شاہانِ جہاں پلتے ہیں ان کی بھیک پر
قاسمِ نعمت ہیں وہ ان کو عطا ہی اور ہے
آپ کی مدحت کا ہے اک سلسلہ ام الکتاب
ان کے خالق نے جو کی ہے وہ ثنا ہی اور ہے
سب حسنیانِ جہاں کہتے تھے ان کو دیکھ کر
ان کی چھب ہی اور ہے ان کی ادا ہی اور ہے
چاند سورج کھنچتے آتے ہیں مدینے کی طرف
گنبدِ پُرنور کی آصفؔ ضیا ہی اور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.