Font by Mehr Nastaliq Web

وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے

محمد آصف قادری

وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    وہ زمیں ہے اور وہ آب و ہوا ہی اور ہے

    شہرِ سلطانِ مدینہ کی فضا ہی اور ہے

    شاہِ بطحیٰ کی غلامی کا مزا ہی اور ہے

    ان کی چوکھٹ پر جو آئے وہ قضا ہی اور ہے

    کتنے شاہانِ جہاں پلتے ہیں ان کی بھیک پر

    قاسمِ نعمت ہیں وہ ان کو عطا ہی اور ہے

    آپ کی مدحت کا ہے اک سلسلہ ام الکتاب

    ان کے خالق نے جو کی ہے وہ ثنا ہی اور ہے

    سب حسنیانِ جہاں کہتے تھے ان کو دیکھ کر

    ان کی چھب ہی اور ہے ان کی ادا ہی اور ہے

    چاند سورج کھنچتے آتے ہیں مدینے کی طرف

    گنبدِ پُرنور کی آصفؔ ضیا ہی اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے