اے خدا سارے جہاں کو ہے بنایا تو نے
اے خدا سارے جہاں کو ہے بنایا تو نے
پھول کلیوں سے اسے خوب سجا یا تو نے
اپنی قدرت کے مظاہر سے زمیں کو ڈھانپا
اس میں پھر لاکھوں خزانوں کو چھپایا تو نے
نام بھی تیرا نہ آتا تھا خدایا ہم کو
عقل دی اور ہمیں خود ہی سکھایا تو نے
مانگتا جاؤں گا جب تک نہ بھرے گی جھولی
ہو نہ مایوس کا مژدہ ہے سنایا تو نے
پھر رہے تھے جو بھٹکتے ہوئے تاریکی میں
راستہ ان کو اجالوں کا دکھایا تو نے
شکر بس تیرا ادا کرتا رہے یہ آصفؔ
جس کو محتاج فقط اپنا بنایا تو نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.